ناول: سجیلا (قسط نمبر9
قسط نمبر: 9 تحریر: ذوقِ عشاء (عشرت خانم) تحفظ کا سائبان اور نئی اڑان پہاڑی وادی کی صبح ہمیشہ ہی خوبصورت ہوتی تھی، لیکن آج کی صبح خالہ کوثر کے کچے صحن میں امید کی ایک ایسی چمک لے کر اتری تھی جس کی تپش صفیہ کے مرجھائے ہوئے وجود کو نئی زندگی بخش رہی تھی۔ پرندوں کی چہچہاہٹ کے ساتھ ہی کچن سے اٹھنے والا دھوئیں کا ہلکا سا بادل اور چائے کی خوشبو اس بات کا اعلان تھی کہ زندگی ٹھہرتی نہیں ہے، وہ اپنے راستے خود بنا لیتی ہے۔ "صفیہ آپا! جلدی کیجیے، اسکول کا وقت ہوا چاہتا ہے اور آپ ہیں کہ ابھی تک چادر کی تہیں درست کر رہی ہیں،" خدیجہ نے صحن میں داخل ہوتے ہوئے چہک کر کہا۔ اس کے ہاتھ میں ایک صاف ستھرا، ہلکے نیلے رنگ کا سوتی دوپٹہ اور صفیہ کا پرانا بستہ تھا جسے اس نے رات بھر بیٹھ کر صاف کیا تھا۔ صفیہ نے آئینے میں اپنے چہرے کو دیکھا۔ آنکھوں کے نیچے خوف کے جو سیاہ حلقے رحمت خان کی بربریت نے چھوڑے تھے، آج وہ عزم کی سرخی کے نیچے چھپ چکے تھے۔ اس نے خدیجہ کی طرف دیکھا اور ایک دھیمی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر مچل گئی۔ "خدیجہ، دل اندر سے بری طرح دھڑک رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے میں کسی بہت بڑے ا...